World
اسرائیل کا شام پر نیا حملہ، امریکی ایلچی کے بیان پر تل ابیب کا سخت ردعمل
امریکی تنقید کے باوجود اسرائیل نے شام کے جنوب مغربی علاقے میں نیا ڈرون حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ اس حملے سے قبل اسرائیل نے شامی ایئر بیس پر حملے پر امریکی ایلچی ٹام بارک کے تنقیدی بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
دمشق: امریکی سفارت کار کی جانب سے شدید تنقید اور تحفظات کے باوجود اسرائیل نے ہفتے کے روز شام میں ایک اور ڈرون حملہ کر دیا، جبکہ اس سے قبل ہونے والے حملے پر امریکی ایلچی ٹام بارک کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق شام کے جنوب مغرب میں جولان کی پہاڑیوں کے قریب واقع گاؤں بیت جن میں ایک اسرائیلی ڈرون نے گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ شامی وزارت خارجہ نے اس حملے کو اپنی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک دہشت گرد کو نشانہ بنایا جو حملوں کی تیاری کے آخری مراحل میں تھا۔
اس نئے حملے سے پہلے امریکی ایلچی برائے شام ٹام بارک نے منگل کے روز ایک غیر فعال شامی ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی تھی اور اسے ایک غير ضروری اقدام قرار دیا تھا جس سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ اس حملے کا مقصد ترکیہ کے ساتھ تنازع پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ امریکی ایلچی کے اس بیان پر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹام بارک کی باتیں غلط معلومات پر مبنی ہیں اور ان کا موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جولان کی پہاڑیوں کے بارے میں موقف سے متصادم ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اس حملے سے قبل امریکہ کے مجاز حکام کو خفیہ معلومات فراہم کر دی تھیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے منگل کے حملے کے بارے میں کہا تھا کہ دمشق کی نئی حکومت کا اتحادی ملک ترکیہ اس فضائی اڈے پر اپنا ملٹری بیس قائم کرنا چاہتا تھا، تاہم انقرہ نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس واقعے کے بعد نیتن یاہو اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے درمیان سخت زبانی کلامی ہوئی ہے۔ ترکیہ نے نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے اردگان کو ایک متعصب ڈکٹیٹر قرار دیا جبکہ ترکیہ نے اس بیان کو لغو قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر جوابدہی سے بھاگنے کا الزام لگایا۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل شام میں سینکڑوں فضائی اور ڈرون حملے کر چکا ہے اور جولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون میں اپنے فوجی داخل کر دیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے بھی شامی سرحد کے قریب اپنے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ شام کے محاذ پر ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی دشمن قوت کو اپنی سرحدوں کے قریب مستحکم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔