Politics
افقی تحریکیں اور سیاسی عدم استحکام: وکلا تحریک اور عرب بہار کی حقیقت
پاکستان کی 2007 کی وکلا تحریک سمیت دنیا بھر کی افقی تحریکیں حکمرانوں کو ہٹانے میں تو کامیاب رہیں لیکن دیرپا بنیادی اصلاحات لانے میں ناکام رہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کے مطابق مرکزی قیادت کے بغیر چلنے والی تحریکیں صرف سیاسی خلا پیدا کرتی ہیں جسے بعد میں پرانی مقتدر قوتیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کر لیتی ہیں۔
سال 2007 میں پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے خلاف شروع ہونے والی وکلا تحریک ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھی جاتی ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک نے اپوزیشن جماعتوں اور عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا، جس کے نتیجے میں 2008 کے عام انتخابات راہ راست پر ائے اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی۔ بعد ازاں دونوں بڑی جماعتوں نے پارلیمانی اکثریت کا استعمال کرتے ہوئے مشرف کو صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ تاہم اس ظاہری کامیابی کے باوجود ملک میں کوئی حقیقی یا بنیادی سیاسی و معاشی تبدیلی نہ آ سکی، بلکہ عدالتی پاپولزم اور سیاسی عدم استحکام کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ تجزیہ نگاروں اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی مرکزی قیادت اور واضح نظریے کے چلنے والی تحریکیں، جنہیں افقی تحریکیں کہا جاتا ہے، طاقتور ترین حکمرانوں کو اقتدار سے باہر تو کر سکتی ہیں لیکن وہ پائیدار اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ 2007 کی وکلا تحریک کے بعد قائم ہونے والی سول حکومت کو نہ صرف عدالتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عسکری قیادت اور عسکریت پسندی کے چیلنجز نے بھی جمہوریت کو کمزور کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تحریک کا بنیادی مقصد یعنی ایک مشترکہ دشمن کا خاتمہ پورا ہو جاتا ہے، تو اس میں شامل مختلف گروہوں کے درمیان اندرونی اختلافات ابھر کر سامنے ا جاتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس حکومت چلانے اور ملک کی تعمیرِ نو کا کوئی واحد اور یکجا وژن نہیں ہوتا۔ ماہرینِ عمرانیات اور سیاسی نظریات کے مطابق انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں غیر مرکزی یا افقی تحریکوں کا ابھار تیز تر ہوا ہے کیونکہ ان میں شرکت کے لیے کسی سیاسی نظم و ضبط یا سخت نظریاتی وابستگی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم روایتی یعنی عمودی تحریکوں کے برعکس، جن میں مرکزی قیادت، واضح تنظیمی ڈھانچہ اور انتظامی تجربہ موجود ہوتا تھا، افقی تحریکیں احتجاج کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1990 کے دہائی کے بعد سے شروع ہونے والی زیادہ تر عوامی تحریکیں، جیسے کہ عرب بہار اور مختلف دیگر احتجاجی لہریں، عارضی کامیابیاں تو حاصل کر سکیں مگر آخر کار وہ پرانے اور مضبوط مقتدر طبقات کی واپسی یا مزید ابتر سیاسی صورتحال کا باعث بنیں۔