Business
سونے کی قیمتوں میں کمی، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور فیڈرل ریزرو کا اثر
عالمی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے اور فیڈرل ریزرو کے اہم پالیسی فیصلے سے قبل سونے کی قیمتوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جس کا براہ راست اثر قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ پر پڑا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر اور امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ مانیٹری پالیسی فیصلے سے پہلے سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ڈالر کے مضبوط ہونے سے سونے کی کشش میں عارضی کمی واقع ہوئی ہے اور بڑے سرمایہ کار اپنے اثاثہ جات کی پوزیشنز کو از سر نو ترتیب دے رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی مرکزی بینک کے فیصلے سے قبل مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سونے کے خریدار اور فروخت کنندگان دونوں ہی فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی عالمی منڈی کے ان ہی رجحانات کے اثرات ملے جلے انداز میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ مقامی سطح پر کچھ روز قبل سونے کے نرخوں میں اتار چڑھاو دیکھا گیا تھا اور کہیں کہیں معمولی اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا، تاہم بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں آنے والی اس حالیہ گراوٹ نے مقامی صرافہ بازار کے کاروباری حجم کو بھی متاثر کیا ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے حوالے سے جو بھی فیصلہ سامنے آئے گا، اس کے بعد ہی سونے کی مارکیٹ میں کسی واضع اور مستقل رجحان کا تعین ہو سکے گا۔ اس دوران، سرمایہ کار اور صرافہ مارکیٹ سے وابستہ کاروباری افراد عالمی معاشی اشاریوں اور ڈالر کے ریٹ پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے قدم کا اندازہ لگایا جا سکے۔