Business
پاکستان میں سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، تازہ ترین ریٹس
پاکستان میں سونے کی مقامی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین اضافے کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 82 ہزار 936 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان بدستور جاری ہے اور مسلسل تیسرے روز بھی نرخوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سونے کی فی تولہ قیمت میں 5700 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونے کے نرخ 4 لاکھ 82 ہزار 936 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل بھی گزشتہ چند دنوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا تھا جس نے سرمایہ کاروں اور عام خریداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور ملکی معاشی صورتحال کے براہ راست اثرات مقامی صرافہ بازاروں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی مانگ میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ مقامی سطح پر بڑی تیزی سے سامنے آیا ہے، تاہم تاجر برادری کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی کے رجحانات ہی مستقبل میں سونے کی قیمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
سونے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے جیولری کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ گاہکوں کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن کے دوران سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام شہری سونا خریدنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے جیولری مارکیٹ میں سستی کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ عالمی اور ملکی معاشی حالات کے پیش نظر سونے کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ آئندہ کچھ عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 4887 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کے نرخ 4 لاکھ 14 ہزار 12 روپے ہو گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر معاشی استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے باوجود سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی معیشت کے مختلف شعبوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ صارفین اور سرمایہ کار اب عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں اور مرکزی بینک کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔