LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2938 پوائنٹس کا خسارہ

News Image
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کے تناظر میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی۔ ہفتہ وار کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,938 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں رواں ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان غالب رہا، جہاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور ملک میں جاری سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کر دیا۔ مڈل ایسٹ میں کشیدگی اور بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کے بحران کا خطرہ گہرا ہو رہا ہے، جس کے براہ راست منفی اثرات مقامی حصص بازار پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ہفتہ وار کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,938 پوائنٹس کا بڑا خسارہ درج کیا گیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں متوقع مزید اضافے کی خبروں نے مارکیٹ کو منفی زون میں دھکیل دیا۔ غیر ملکی اور مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے خطرات سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت کو ترجیح دی۔ اس کے علاوہ روپے کی قدر میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر سیاسی کشیدگی نے بھی حصص منڈی میں عدم استحکام کو ہوا دی، جس کی وجہ سے خریدار مارکیٹ سے غائب دکھائی دیے اور فروخت کا دباؤ مسلسل بڑھتا گیا۔ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں 1.6 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ توانائی، آئل اینڈ گیس، بینکنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس اہم دفاعی سطحوں سے نیچے گر گیا۔ سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں عالمی و مقامی معاشی اشاریوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا اور ملکی سطح پر سیاسی وضاحت سامنے نہ آئی تو اسٹاک مارکیٹ پر مندی کے بادل چھائے رہ سکتے ہیں۔ تاہم اگر حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کی رفتار تیز کی گئی اور عالمی تناؤ میں کمی آئی تو مارکیٹ میں دوبارہ بہتری کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔