LIVE
Loading Breaking News...

سو نیاتھی کا نیٹ فلکس ہٹ اور خواتین کے عکساں کردار پر بیان

News Image
زمبابوے سے تعلق رکھنے والی ناول نگار سو نیاتھی نے اپنے کامیاب نیٹ فلکس پروجیکٹ کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ دور میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے مالی مشکلات کتنی بڑی رکاوٹ ہیں۔
زمبابوے سے تعلق رکھنے والی معروف ناول نگار سو نیاتھی نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ خواتین ناظرین نیٹ فلکس پر پیش کی جانے والی ان کی کامیاب کہانی میں اپنے آپ کو واضح طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کہانیاں جب روزمرہ کی زندگی اور حقیقت کے قریب ہوں تو سامعین ان کے ساتھ گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں۔ سو نیاتھی نے اس بات پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا کہ کس طرح مصنفین اور تخلیق کاروں کو آج بھی اپنے کام کی ترویج اور اشاعت کے لیے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ سو نیاتھی نے اپنے ادبی کیریئر کے آغاز میں اپنے پہلے ناول کو خود فنڈ کیا تھا، جو کہ کسی بھی نئے مصنف کے لیے ایک انتہائی کٹھن اور مالی طور پر خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے موجودہ دور کے ادبی منظر نامے پر سوال اٹھایا ہے کہ آخر آج کے مہنگے دور میں کون اتنی مالی سکت رکھتا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر لکھنے کو اپنا مستقل پیشہ بنا سکے۔ ان کے مطابق، مالی امداد یا مضبوط وسائل کے بغیر تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے کئی ہونہار لکھاری منظر عام پر نہیں آ پاتے۔ اس کے باوجود، ان کے کام کو نیٹ فلکس جیسے بڑے عالمی پلیٹ فارم پر پذیرائی ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواد میں جان ہو تو وہ ہر قسم کی جغرافیائی اور مالی حدود کو عبور کر لیتا ہے۔ سو نیاتھی کی کہانیاں بنیادی طور پر افریقی معاشرت، خواتین کے حقوق، اور خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں کے گرد گھومتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی خواتین ان کرداروں میں اپنی ذات اور مسائل کا عکس پاتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خواتین کے لکھے گئے اور ان کے مسائل پر مبنی ادب کی عالمی سطح پر کتनी بڑی مانگ ہے۔ نیکسو دنیا اور قارئین کے لیے یہ کہانی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ تخلیقی آزادی اور مالیاتی خودمختاری کے درمیان توازن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سو نیاتھی کا یہ سفر دنیا بھر کے ان نوجوان لکھاریوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان کے اس تجربے کے بعد ادبی حلقوں میں نئے لکھاریوں کی مالی معاونت اور فروغ کے لیے مزید مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔