World
امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ، ٹرمپ اور کینیڈین وزیراعظم میں تنازع
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے جوابی ٹیرف کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا مزید غیر منصفانہ محصولات عائد نہیں رکھ سکتا۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں روایتی اتحادی ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کینیڈا کی طرف سے جوابی ٹیرف کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ کینیڈین وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے نئے محصولات کے نفاذ کے بعد کینیڈا بھی جوابی اقدامات اٹھائے گا۔ تجارتی مذاکرات کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال نے عالمی سطح پر بھی تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا بغیر ریاست بنے اس کے تمام فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا نے طویل عرصے تک امریکی کسانوں پر بھاری بھرکم ٹیرف عائد کیے ہیں جو اب مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ دوسری طرف کینیڈین وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا کی طرف سے نئے جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے جن میں خاص طور پر امریکی اسٹیل اور ڈیری کی صنعتوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے پیش کردہ شرائط غیر منصفانہ تھیں جنہیں کینیڈا قبول نہیں کر سکتا۔
واشنگٹن کی طرف سے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اپنایا گیا ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کینیڈا کے جوابی اقدامات کا بھرپور جواب دے گا اور فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان مزید کسی نئے مذاکرات کا کوئی پلان زیر غور نہیں ہے۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی سے شمالی امریکہ کے سپلائی چین اور کاروباری مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی مبصرین اس صورتحال کو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا اور مشکل موڑ قرار دے رہے ہیں۔