World
آسٹریلیا میں H5N1 برڈ فلو کا پہلا کیس درج
آسٹریلیا کے محکمہ صحت نے ملک میں پہلی بار کسی مقامی ممالیہ جانور میں خطرناک H5N1 برڈ فلو وائرس کی تصدیق کی ہے۔ ماہرینِ حیوانات اور طبی ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
آسٹریلیا کے متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں پہلی بار ایک مقامی ممالیہ جانور کے اندر ایچ فائیو این ون (H5N1) برڈ فلو وائرس کا کیس سامنے آیا ہے۔ اس دریافت نے طبی و سائنسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ خطرناک وائرس اب تک زیادہ تر پرندوں اور مخصوص آبی حیات تک محدود سمجھا جا رہا تھا، لیکن اب اس کا دائرہ کار ممالیہ جانوروں تک بھی پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ جانور کی نشاندہی کے فوراً بعد تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں اور اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ وائرس اس جانور تک کیسے منتقل ہوا۔
محکمہ صحت اور وائلڈ لائف کے ماہرین کے مطابق، ایچ فائیو این ون وائرس کی یہ قسم عالمی سطح پر جنگلی حیات اور پولٹری فارمنگ کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اس وائرس نے دنیا کے مختلف حصوں میں پرندوں کے علاوہ کئی ممالیہ جانوروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے، جس کے بعد اب آسٹریلیا کا شمار بھی ان خطوں میں ہو گیا ہے جہاں یہ انفیکشن رپورٹ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے کیسز سامنے آنے سے وائرس کے میوٹیشن یا اس کی ہیئت تبدیل کرنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جو مستقبل میں انسانوں یا دیگر جانوروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ ریسرچ اداروں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ تمام فارمز، چڑیا گھروں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جانوروں کی صحت پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک علامت کی صورت میں فوری طور پر محکمہ صحت کو مطلع کریں۔ دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی طبی تنظیمیں بھی آسٹریلوی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ اس وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ انفیکشن انسانوں تک منتقل نہ ہو۔