LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کینیڈا تجارتی تنازع، کینیڈا کا جوابی ٹیرف کا فیصلہ

News Image
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دو طرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ کینیڈا نے امریکی ٹیرف کے جواب میں سخت اقدامات اٹھانے اور جوابی ٹیرف عائد کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی معاملات پر جاری کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کے بعد کینیڈا کی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ متنازعہ ٹیرف کے خلاف بھرپور جوابی اقدامات اٹھائے گی۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے معاشی مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ بلا جواز تجارتی دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھुकائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ پیش رفت سے شمالی امریکہ کے ان دو قریبی اتحادیوں اور اہم تجارتی شراکت داروں کے تعلقات میں ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار تجارت اربوں ڈالرز پر محیط ہے اور ٹیرف کی اس جنگ سے نہ صرف دونوں حکومتیں بلکہ کارپوریشنز اور عام صارفین بھی متاثر ہوں گے۔ کینیڈین قیادت کا یہ سخت مؤقف اس عزم کا مظہر ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر ممکنہ معاشی حکمت عملی بروئے کار لائے گی۔ دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی تاحال اپنے مؤقف میں لچک دکھانے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تجارتی تنازع آنے والے دنوں میں مزید طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ عالمی معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے ہوش سے کام نہ لیا اور مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے، تو اس کا منفی اثر نہ صرف ان کی اپنی معیشتوں بلکہ پوری عالمی تجارت پر بھی پڑے گا۔