Business
سونے کی قیمتوں میں اضافہ، بلین مارکیٹ میں تیزی کا رجحان
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں رواں ہفتے پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ تین ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ کمزور امریکی ڈالر اور مرکزی بینکوں کی خریداری کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں شاندار اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ مسلسل تیسرے ہفتے بھی مثبت زون میں بند ہوئی ہیں۔ رواں ہفتے سونے کے نرخوں میں پانچ فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد فی اونس سونا تقریباً چوالیس سو سے چھیاسٹھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ قیمتیں گزشتہ تین ماہ کے دوران سب سے بلند ترین سطح شمار کی جا رہی ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ اس مسلسل تیزی کی بنیادی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی، ٹریژری بانڈز کی بازخرید اور امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو مستحکم رکھنے کی توقعات شامل ہیں۔ ماہرین معیشت کے مطابق جب بھی عالمی سطح پر ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دیتے ہیں، جس سے اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اور عالمی کرنسیوں کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات بھی اس تیزی کو تقویت دے رہے ہیں۔ تجزیہ کار طویل مدت میں سونے کی مارکیٹ کے حوالے سے کافی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ مثبت رجحان آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ آیا بلین مارکیٹ مستقبل قریب میں اپنی تاریخی بلند ترین سطحوں کو چھونے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔ بہرحال، موجودہ اقتصادی حالات اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاری غیر یقینی کی صورتحال نے سونے کی مارکیٹ کو ایک بار پھر سرخیوں کا حصہ بنا دیا ہے اور سرمایہ کار اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔