LIVE
Loading Breaking News...

ماحولیاتی تبدیلی اور حمل کے خطرات - نیکسورا نیوز

News Image
موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی کی وجہ سے حمل کے دوران پیچیدگیوں اور بچوں کے ضائع ہونے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ طبی نظام اس ابھرتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے اثرات اب انسانی صحت بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ نئی طبی رپورٹس کے مطابق انتہائی گرمی اور زہریلی ہوا حاملہ خواتین اور ان کے بچوں کی زندگی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، جس سے بچوں کے قبل از وقت پیدا ہونے یا ضائع ہونے کے خدشات میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا خاموش بحران ہے جو تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی کے ذرات اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ماں اور بچے دونوں کے لیے حمل کے دوران پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔ ماہرینِ صحت نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ روایتی طبی ڈھانچہ اور صحت کے موجودہ نظام اس ماحولیاتی خطرے سے نمٹنے کے لیے کسی طور پر تیار نہیں ہیں۔ ہسپتالوں اور کلینکس میں ایسے ڈاکٹروں اور عملے کی کمی ہے جو موسمیاتی اثرات سے جڑے حمل کے مسائل کو بروقت اور مؤثر طریقے سے ڈیل کر سکیں۔ اس صورتحال میں فوری طور پر صحت کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور حاملہ خواتین کو اس سے بچانے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کریں۔ اس ضمن میں عوامی سطح پر آگاہی پھیلانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ خواتین کو سخت گرمی اور آلودگی کے اوقات میں محفوظ رکھا جا سکے اور طبی امداد بروقت فراہم کی جا سکے۔