LIVE
Loading Breaking News...

ایپل ویژن پرو کا خفیہ نام منظر عام پر آگیا

News Image
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایپل کے نئے مکسڈ رئیلٹی ہیڈسیٹ سے متعلق ایک اہم راز فاش ہو گیا ہے۔ ایک معروف لیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل نے پروڈکٹ لانچ کرنے سے پہلے اس کا ایک خفیہ نام رکھا تھا۔
ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ایپل کے بارے میں آئے روز نئی اور دلچسپ خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، اور اب ایک بار پھر ایپل کے ویژن پرو ہیڈسیٹ کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ ایک نامور لیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل کے اس جدید ترین اسپیشل کمپیوٹنگ ڈیوائس کا مارکیٹ میں آنے سے پہلے ایک خفیہ اندرونی نام رکھا گیا تھا۔ یہ انکشاف ان تمام شائقین کے لیے انتہائی دلچسپ ہے جو ایپل کی پروڈکٹ ڈویلپمنٹ کے عمل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ایپل کی جانب سے ہمیشہ سے اپنی آنے والی مصنوعات کے ناموں اور خصوصیات کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاکہ مارکیٹ میں سرپرائز عنصر برقرار رہے، لیکن لیکرز کی وجہ سے اکثر اہم معلومات پہلے ہی باہر آ جاتی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایپل کا یہ ویژن پرو ہیڈسیٹ اپنی تیاری کے مراحل کے دوران کئی ناموں سے جانا جاتا رہا ہے، تاہم اس کا اصل اندرونی کوڈ نیم یا خفیہ نام اب دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے کہ آیا ایپل نے اس نام کو کیوں منتخب کیا تھا اور اس کے پیچھے کیا حکمت عملی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی مصنوعات کے پروٹو ٹائپ اور ابتدائی ماڈلز کے لیے ایسے نام رکھتی ہیں جو عام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں تاکہ اندرونی مواصلات میں آسانی ہو۔ ویژن پرو ایپل کی تاریخ کی سب سے مہنگی اور تکنیکی لحاظ سے پیچیدہ ترین ڈیوائسز میں سے ایک ہے، جس نے ورچوئل رئیلٹی اور اگمنٹڈ رئیلٹی کی صنعت میں ایک انقلاب برپا کیا ہے۔ اس ڈیوائس کو بنانے میں کئی سال کی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ شامل ہے، اور اس دوران اس پر مختلف ٹیموں نے کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اندرونی نام اور شناخت کے بارے میں وقتاً فوقتاً ایسی اطلاعات لیک ہوتی رہتی ہیں۔ ایپل نے تاحال اس لیک ہونے والے خفیہ نام پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، جو کہ کمپنی کی پرانی روایت کے عین مطابق ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے انکشافات سے ایپل کی مصنوعات کے بارے میں صارفین کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ خفیہ ناموں کا عام صارفین کی زندگیوں یا خریداری کے فیصلوں پر براہ راست کوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن جو لوگ ٹیک انڈسٹری کی اندرونی کہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ معلومات بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس لیک کے بعد مزید تفصیلات بھی سامنے آئیں گی جو یہ واضح کریں گی کہ ایپل نے اپنی اس انقلابی ڈیوائس کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے کن کن مراحل سے گزارا تھا۔