LIVE
Loading Breaking News...

کونسل پالیسیوں کو شاعری میں بدلنے والا ریپر اور اس کا منفرد انداز

News Image
ایک سابق کونسل ملازم نے نوجوانوں تک حکومتی پالیسیاں پہنچانے کے لیے شاعری اور اسپنکن ورڈ کا انوکھا راستہ اپنایا ہے۔ وہ پیچیدہ دفتری زبان کو تخلیقی انداز میں پیش کر کے نوجوان نسل کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں ایک سابق کونسل ملازم نے حکومتی اور دفتری کلام کو سمجھنے کے عمل کو دلچسپ بنانے کے لیے انتہائی تخلیقی طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ عام طور پر کونسل کی پالیسیاں اور دفتری اصطلاحات اتنی پیچیدہ ہوتی ہیں کہ عام شہری بالخصوص نوجوان ان سے دور بھاگتے ہیں، لیکن اس سابق ورکر نے اس مسئلے کا ایک انوکھا حل نکال لیا ہے۔ انہوں نے کونسل کے مشکل الفاظ اور پالیسی دستاویزات کو ریپ میوزک اور شاعری کی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اس تخلیقی اقدام کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو مقامی حکومت کے امور اور فیصلوں میں شامل کرنا ہے۔ بہت سے نوجوان دفتری کارروائی اور پالیسیوں کی بھاری بھرکم زبان سے ناواقف ہوتے ہیں یا اس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جب اسی مواد کو تال اور شاعری کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو نہ صرف نوجوان اسے آسانی سے سمجھ جاتے ہیں بلکہ وہ اس میں گہری دلچسپی بھی ظاہر کرتے ہیں۔ مذکورہ فنکار کا کہنا ہے کہ ان کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ فن اور ثقافت کے ذریعے کسی بھی مشکل پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مختلف کمیونٹی پروژمز اور ورکشاپس کے دوران اپنے اس ہنر کا مظاہرہ کیا ہے، جسے نوجوانوں اور اساتذہ کی طرف سے بے پناہ پذیرائی ملی ہے۔ دفتری عملے نے بھی اس منفرد کوشش کو سراہا ہے کیونکہ اس سے پالیسیوں کے ابلاغ میں بڑی مدد مل رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومتی اداروں کو عوام بالخصوص نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایسے ہی تخلیقی اور جدید ذرائع اپنانے چاہئیں۔ شاعری اور موسیقی کی طاقت سے کونسل کے پیغامات اب ہر خاص و عام تک پہنچ رہے ہیں، جس سے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی اور بیداری پیدا ہو رہی ہے۔