LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا اور چین کا تجارتی اور اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

News Image
انڈونیشیا اور چین نے تجارت، سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی کے اہداف کو تیزی سے حاصل کرنا ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا اور چین نے باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے باہمی تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے۔ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد دونوں ایشیائی معیشتوں کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس تعاون سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو استحکام ملے گا بلکہ مجموعی خطے میں بھی ترقیاتی رفتار تیز ہوگی۔ مذاکرات کے دوران مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انڈونیشیا اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار اور سپلائی چین کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ابھرتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں ایک بین الاقوامی آرگنائزیشن کے قیام اور اس میں موثر کردار ادا کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ قدم دونوں ممالک کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے رہنے میں مدد فراہم کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین اور انڈونیشیا کا یہ قریبی رابطہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں ابھرتی ہوئی معیشتیں باہمی تعاون کے ذریعے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور دیگر علاقائی پراجیکٹس کے تحت ہونے والی یہ پیش رفت دونوں ممالک کے عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع اور بہتر معیار زندگی کی ضمانت بن رہی ہے۔ دونوں حکومتیں اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلے جاری رکھے جائیں گے۔