LIVE
Loading Breaking News...

خراب دانتوں کا علاج اور بچاؤ کی جدید تدبیریں - نیکسورا نیوز

News Image
جدید طبی ٹیکنالوجی کی بدولت اب شدید خراب دانتوں کو بھی بچانا ممکن ہو گیا ہے۔ یہ مکمل طور پر نقصان کی نوعیت پر منحصر ہے کہ کون سا علاج کارآمد ہوگا۔
جدید دور میں دندان سازی یعنی ڈینٹسٹری کی ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب مریضوں کے لیے یہ سوال کہ کیا واقعی خراب دانتوں کو بچایا جا سکتا ہے، انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ماضی میں شدید خراب یا ٹوٹے ہوئے دانتوں کے پاس واحد حل ان کا نکالنا ہی ہوتا تھا، لیکن اب جدید سائنسی اور طبی علوم کی بدولت ماہرینِ امراضِ دندان کے لیے ایسے دانتوں کو بچانا ممکن ہو چکا ہے جو کسی زمانے میں ناقابلِ علاج سمجھے جاتے تھے۔ اس تمام عمل کا انحصار بنیادی طور پر نقصان کی نوعیت اور گہرائی پر ہوتا ہے، اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ دانت کی جڑ کتنی محفوظ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دانت کا مسوڑھوں کے اندر والا حصہ اور جڑ مضبوط ہو، تو اسے مختلف جدید طریقوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ ان طریقوں میں روٹ کینٹ ٹریٹمنٹ، ڈینٹل کراؤنز اور سرجیکل علاج شامل ہیں۔ اگر انفیکشن صرف دانت کے بیرونی یا اندرونی حصے تک محدود ہو اور جڑ تک نہ پہنچا ہو، تو ڈاکٹرز جدید ادویات اور فلنگ کی مدد سے اسے بحال کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گم سرجری اور پیریڈونٹل علاج بھی دانتوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو مسوڑھوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ تاہم، تمام تر جدید سہولیات کے باوجود کچھ ایسے کیسز بھی ہوتے ہیں جہاں دانت کو نکالنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر دانت جڑ کی سطح سے نیچے تک ٹوٹ چکا ہو یا اس میں شدید قسم کا فریکچر موجود ہو جو کہ دوبارہ جڑنے کے قابل نہ ہو، تو ایسی صورت میں انفیکشن کو اردگرد کے صحت مند دانتوں اور جبڑے تک پھیلنے سے روکنے کے لیے دانت کی تخریب یا نکاسی ہی بہتر فیصلہ مانی جاتی ہے۔ دانت نکالنے کے بعد مریض کے پاس ڈینٹل امپلانٹس یا بریجز کا آپشن موجود ہوتا ہے تاکہ مصنوعی طریقے سے اس کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ آخر میں، دانتوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے بہترین حکمت عملی بروقت معائنہ اور احتیاطی تدابیر ہیں۔ باقاعدگی سے دانتوں کے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا، روزانہ دو بار برش کرنا اور فلاس کا استعمال کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ چھوٹے موٹے مسائل بڑے نقصان کی شکل اختیار نہ کریں۔ اگر آپ بھی دانتوں کے کسی ایسے ہی سنجیدہ مسئلے سے دوچار ہیں، تو خود فیصلہ کرنے کے بجائے کسی ماہر ڈینٹسٹ سے رجوع کریں تاکہ وہ آپ کے دانتوں کی حالت کا جائزہ لے کر بہترین علاج تجویز کر سکے۔