LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی پرائیویٹ کریڈٹ فنڈز کا مصنوعی ذہانت کا استعمال

News Image
بھارتی پرائیویٹ کریڈٹ فنڈز نے سرمایہ کاری کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ ای وائی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر فنڈز ڈیٹا کے تجزیے اور مانیٹرنگ کے لیے اے آئی سے مدد لے رہے ہیں۔
نئی دہلی (نیکسو را نیوز اردو) بھارت میں پرائیویٹ کریڈٹ فنڈز تیزی سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری نظام میں شامل کر رہے ہیں تاکہ ڈیل سورسنگ اور انڈر رائٹنگ کے مراحل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ معروف کنسلٹنگ فرم ای وائی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مالیاتی منڈی میں بڑھتے ہوئے مسابقت کے پیش نظر فنڈز اب روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی آلات کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر پرائیویٹ کریڈٹ فنڈز مصنوعی ذہانت کو معتدل انداز میں استعمال کرتے ہیں، جن میں بنیادی طور پر ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ اور پورٹ فولیو کی مانیٹرنگ شامل ہے۔ اس طریقہ کار سے انہیں مارکیٹ کے رجحانات کو سمجھنے اور بروقت فیصلے کرنے میں بڑی مدد مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ، فنڈز کا ایک چھوٹا لیکن نمایاں گروپ ایسا بھی ہے جو مصنوعی ذہانت کو اپنے بنیادی سرمایہ کاری کے عمل میں گہرائی سے ضم کر رہا ہے۔ یہ ادارے ڈیل کے ابتدائی انتخاب سے لے کر حتمی منظوری تک کے تمام مراحل میں اے آئی الگورتھمز کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے خطرات کو کم کرنے اور منافع بخش مواقع تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کا یہ بڑھتا ہوا رجحان آنے والے دنوں میں مالیاتی صنعت کی تصویر بدل کر رکھ دے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف انسانی غلطیوں کا امکان کم ہوتا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر دستیاب ڈیٹا کو سیکنڈوں میں پروسیس کرنا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔