World
نائیجیریا میں بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن اور اسپتالوں کا کردار
نائیجیریا میں پیدائش کے وقت رجسٹریشن کا فقدان ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس سے لاکھوں بچے قانونی شناخت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اسپتال اس خلا کو پر کرنے اور ہر نوزائیدہ بچے کی بروقت رجسٹریشن یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نائیجیریا میں ہر سال لاکھوں بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی سرکاری سطح پر رجسٹریشن نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے یہ بچے بنیادی قانونی حقوق اور شناخت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں بچے ایسے ہیں جن کی پیدائش کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بچوں کے مستقبل کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے کیونکہ پیدایشی سرٹیفکیٹ کے بغیر تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی ناممکن ہوتی جاتی ہے۔
اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب صحت کے ماہرین اور سماجی کارکنوں نے زور دیا ہے کہ تمام اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز میں پیدائش کے فوراً بعد رجسٹریشن کا عمل لازمی قرار دیا جائے۔ جب ایک بچہ دنیا میں آتا ہے تو اس کی پہلی سانس کے ساتھ ہی اس کے حقوق کا تحفظ بھی شروع ہونا چاہیے۔ نرسیں اور طبی عملہ جو پیدائش کے وقت وہاں موجود ہوتا ہے، وہ اس عمل میں اہم ترین پل کا کردار ادا کر سکتا ہے تاکہ والدین کو دفتری چکر کاٹنے کے بجائے اسپتال کے اندر ہی بچے کی پیدائش کا اندراج کرانے کی سہولت مل سکے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ نائیجیریا کے دیہی اور شہری علاقوں میں اس نظام کو مزید مربوط اور آسان بنائیں۔ اگر اسپتالوں کی سطح پر ہی پیدائش کا ریکارڈ رکھنے کا ایک مضبوط اور ڈیجیٹل نظام قائم کر دیا جائے تو اس گمشدہ رجسٹریشن کے فرق کو بڑی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بچوں کو ان کی قانونی شناخت ملے گی بلکہ ملک کے پاس درست آبادیاتی اعداد و شمار بھی دستیاب ہوں گے جو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوں گے۔