Technology
اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال
اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیاں دنیا بھر میں امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ جدید ٹیکنالوجی بارودی سرنگوں کی شناخت، آفات سے ہونے والے نقصان کے تخمینے اور مشکوک مالیاتی سرگرمیوں کو پکڑنے میں مدد دے رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ، سلامتی کے قیام اور پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو تیزی سے وسعت دینا شروع کر دی ہے۔ دنیا کو درپیش پیچیدہ چیلنجز سے نبردآزا ہونے کے لیے اب عالمی ادارے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید تکنیکی ذرائع پر بھی انحصار کر رہے ہیں تاکہ انسانی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق، اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیاں زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے اے آئی الگورتھمز کا سہارا لے رہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف خطرناک بارودی سرنگوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے بلکہ مختلف علاقوں میں قدرتی آفات یا جنگی حالات کے نتیجے میں ہونے والے مالی اور جانی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں تیزی آتی ہے۔
مزید برآں، مصنوعی ذہانت کو بین الاقوامی سطح پر مالیاتی جرائم اور مشکوک مالی লেন دین کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ کا ماننا ہے کہ اگر اس جدید ٹیکنالوجی کو اخلاقی دائرہ کار میں رہتے ہوئے استعمال کیا جائے تو یہ انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی امن کے قیام میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔