World
بھارت فن لینڈ سرکلر اکانومی تعاون اور تجارتی شراکت داری
نئی دہلی میں منعقدہ ایک اہم فورم کے دوران بھارت اور فن لینڈ کے کاروباری نمائندوں نے دائرہ معیشت اور وسائل کے مؤثر استعمال میں اشتراک بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی اور بزنس پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ایک خصوصی فورم کے دوران بھارت اور فن لینڈ کے مابین دائرہ معیشت یا سرکلر اکانومی کے شعبے میں تجارتی اور تکنیکی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دو طرفہ پلیٹ فارم پر دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم کمپنیوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی تاکہ وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ فورم کا بنیادی مقصد ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو رفتار دینا بھی ہے۔
اجلاس کے دوران فریقین کا ماننا تھا کہ موجودہ دور میں روایتی معاشی ماڈلز کے بجائے سرکلر اکانومی کے اصولوں کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ فن لینڈ کی کمپنیاں اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور تجربہ رکھتی ہیں جبکہ بھارتی مارکیٹ میں وسعت اور تیز رفتار صنعتی ترقی کے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور گرین ٹیکنالوجی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس موقع پر ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فضلہ کم کرنے، ری سائیکلنگ کے جدید طریقوں کو اپنانے اور توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال میں باہمی تعاون دونوں معیشتوں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومتوں کی سطح پر بھی ایسی پالیسیاں بنانے پر اتفاق کیا گیا جو اس قسم کے کاروباری اور تکنیکی تبادلوں کو آسان بنائیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس فورم کے بعد آنے والے مہینوں میں بھارت اور فن لینڈ کے درمیان کارپوریٹ سطح پر کئی نئے معاہدے طے پائیں گے۔