World
کینیڈا کا امریکہ کے خلاف نئے ٹیرف کا اعلان، تجارتی مذاکرات ناکام
امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کینیڈا نے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین رہنماؤں نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے ملکی مفاد میں اٹھائے گئے قدم کی مکمل حمایت کی ہے۔
امریکہ کے ساتھ ہونے والے اہم تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کینیڈا نے جوابی طور پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب فریقین کے درمیان جاری طویل بات چیت کسی نتیجہ پر پہنچنے میں ناکام رہی اور کینیڈین حکام نے امریکی شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا۔ مبصرین کے مطابق دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کینیڈین قیادت کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران بہت زیادہ مطالبات رکھے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں انتہائی کم مراعات کی پیشکش کی گئی۔ کینیڈین حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کا معاہدہ ملک کے معاشی مفادات کے خلاف تھا لہٰذا بات چیت کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں بچا۔ اس فیصلے کے بعد امریکی صدر کی طرف سے بھی جوابی ردعمل سامنے آیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امور پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب کینیڈا کے مختلف صوبوں کے پریمئیرز اور سیاسی رہنماؤں نے اس معاملے پر حکومت کے مؤقف کی بھرپور تائید کی ہے۔ صوبائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کے معاشی تحفظ اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امریکی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکایا جائے گا۔ کینیڈین عوام اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس سخت فیصلے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ملکی صنعتوں کو غیر منصفانہ تجارتی حالات سے بچانے میں مدد ملے گی۔
آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اس تجارتی بحران کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو اس سے نہ صرف دو طرفہ تجارت متاثر ہوگی بلکہ عام صارفین کے لیے بھی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی منڈی میں اس کشیدگی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ معاشی اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔