LIVE
Loading Breaking News...

سپانٹک پیک: ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت نکالنے کا آپریشن برفباری کے باعث معطل

News Image
گلگت بلتستان کی سپانٹک چوٹی پر شدید برفباری کے باعث ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت کو نیچے لانے کا امدادی آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ الپائن کلب اور مقامی انتظامیہ کے مطابق، موسم بہتر ہوتے ہی زمینی ٹیم اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع 7,027 میٹر بلند سپانٹک پیک پر شدید برفباری کے باعث پاکستانی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت کو نیچے لانے کی کوششیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ چونتیس سالہ ڈاکٹر اسماء مشتاق جمعرات کے روز سپانٹک چوٹی (جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے) سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6,250 میٹر کی بلندی پر ہائی الٹیٹیوڈ سکنیس (بلندی کی بیماری) کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں۔ ان کی میت اس وقت کیمپ تھری پر موجود ہے، اور حکام کے مطابق خراب موسم نے ریسکیو ٹیموں کی پیش قدمی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) اور جی بی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ میت کے حصول میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے۔ اے سی پی کے جنرل سیکریٹری ایاز شگری کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ریسکیو ٹیم نے ہفتے کے روز روانہ ہو کر اتوار کو کیمپ ٹو تک رسائی حاصل کر لی تھی، تاہم شدید برفباری کے باعث آپریشن مزید جاری نہ رکھا جا سکا۔ ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بیس کیمپ واپس لوٹ آئے اور موسم بہتر ہونے کا انتظار کرے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاک فوج کے تعاون سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہیلی کاپٹر ریسکیو کے لیے بھی منظوری کا عمل جاری ہے۔ کمشنر بلتستان ڈویژن کمال خان نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹ্যুর آپریٹر نے ماؤنٹینٹیئرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس نے بروقت زمینی ریسکیو ٹیم کا انتظام نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہیلی کاپٹر سروس کے لیے انشورنس ادا کی تھی۔ تاہم انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایک مقامی چھ رکنی ریسکیو ٹیم کو تشکیل دیا جن کے اخراجات ایک غیر سرکاری تنظیم اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چھ ہزار میٹر سے زائد بلندی سے میت کو نیچے لانا انتہائی خطرناک اور مشکل کام ہوتا ہے، اور تمام تر کوششیں موسم کی بہت سے مشروط ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی بلندیوں پر حادثات کے بعد میتیں نکالنا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، لیکن انتظامیہ اور لواحقین کی اولین ترجیح ڈاکٹر اسماء کی میت کو باحفاظت اور پُروقار طریقے سے نیچے لانا ہے۔ ڈاکٹر اسماء مشتاق کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں مقیم گائناکالوجسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پرجوش کوہ پیما بھی تھیں، جنہوں نے اس سے قبل بھی کئی مہمات میں حصہ لیا تھا۔