LIVE
Loading Breaking News...

باڈی پارک ایٹم: اے آئی پرسنل ٹرینر کا نیا اور حیرت انگیز تجربہ

News Image
مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ڈیوائس باڈی پارک ایٹم ورزش کے دوران جسمانی حرکات کو مانیٹر کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے ماہرین کو بھی اپنی درستگی اور کارکردگی سے حیران کر دیا ہے۔
فٹنس کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب ایسی پورٹیبل ڈیوائسز متعارف کروائی جا رہی ہیں جو کسی پروفیشنل ٹرینر کی طرح انسان کی رہنمائی کر سکتی ہیں۔ حال ہی میں باڈی پارک ایٹم نامی ایک ایسی ہی ڈیوائس کی جانچ کی گئی جس کا مقصد بغیر کسی رکاوٹ یا مہنگے اخراجات کے گھر بیٹھے بہترین پرسنل ٹریننگ کا تجربہ فراہم کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر اس ڈیوائس کے نتائج کے حوالے سے کچھ شکوک و شبہات پائے جاتے تھے، تاہم اس کی جدید ترین موومنٹ میپنگ ٹیکنالوجی نے تمام ناقدین کو دنگ کر دیا۔ یہ ایک چھوٹے سمارٹ سپیکر کی مانند نظر آنے والی یونٹ ہے جو جدید ترین مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کرتی ہے۔ جب اس کا عملی تجربہ کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ ڈیوائس ورزش کے دوران جسم کی ہر حرکت کو انتہائی باریکی اور درستگی کے ساتھ نوٹ کرتی ہے۔ چاہے آپ پش اپس لگا رہے ہوں یا سکواٹس کر رہے ہوں، باڈی پارک ایٹم آپ کے پوسچر یعنی جسمانی زاویے کو فوراََ پرکھتی ہے اور جہاں کہیں بھی اصلاح کی ضرورت ہو، بروقت اور درست فیڈ بیک فراہم کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بغیر کسی لباس پر سینسر پہنے صرف کیمرے اور اے آئی الگورتھم کی مدد سے کام کرتی ہے، جو کہ عام صارفین کے لیے انتہائی سہولت بخش ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی ایجادات مستقبل میں فٹنس کے رجحانات کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی۔ روایتی طور پر پرسنل ٹرینر کی خدمات حاصل کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی اور جیمز کے باقاعدہ اخراجات بھی کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں باڈی پارک ایٹم جیسی پورٹیبل اے آئی ڈیوائسز عام لوگوں کو ایک سستا، مؤثر اور قابل بھروسہ متبادل فراہم کرتی ہیں۔ اس ڈیوائس کے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ عام انسان کی زندگی میں صحت اور تندرستی کے اصولوں کو زیادہ بہتر طریقے سے لاگو کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کی مزید اپ ڈیٹس متوقع ہیں جو فٹنس کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیں گی۔