World
کانگو ایبولا اپڈیٹ: اموات 1500 سے متجاوز، ویکسین کی عدم موجودگی پر تشویش
کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد پندرہ سو سے زائد ہو گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں وائرس کو روکنے کی شدید کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق بندیبگیو سٹرین کے خلاف تاحال کوئی مؤثر ویکسین دستیاب نہیں ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں مہلک وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد پندرہ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں اور مقامی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور طبی عملے کو وائرس کی روک تھام میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کانگو کے مختلف حصوں میں ایبولا کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس نے طبی و انتظامی مشینری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
طبی ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی ایک بڑی وجہ وائرس کے مخصوص سٹرین کے خلاف ویکسین کی عدم موجودگی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بندیبگیو سٹرین کے خلاف تاحال کوئی بھی منظور شدہ یا مؤثر ویکسین دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے علاج معالجے کے امور میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے نہ صرف مریضوں کی جانیں بچانا مشکل ہو رہا ہے بلکہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے والے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی خاطر خواہ نتائج نہیں دے پا رہے۔
حکومت اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر طبی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جو لوگوں میں اس بیماری سے بچاؤ سے متعلق آگاہی پھیلانے اور مشتبہ کیسز کو قرنطینہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، کمزور بنیادی ڈھانچہ، رس و رسائل کے مسائل اور بعض علاقوں میں سکیورٹی کی خراب صورتحال امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے کانگو کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید طبی امداد اور وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر موثر حکمت عملی وضع نہ کی گئی اور ضروری طبی سازوسامان کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو ایبولا کا یہ پھیلاؤ نہ صرف کانگو بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مراکز سے رجوع کریں تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔