LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی وزیرستان میں فائرنگ، ملا نذیر گروپ کا سابق حامی جاں بحق

News Image
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کالعدم طالبان کمانڈر ملا نذیر گروپ کا ایک سابق حامی جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدم درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
پشاور: لوئر جنوبی وزیرستان کے تحصیل وانا کے علاقے دوآگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے طالبان کے مرحوم کمانڈر ملا نذیر کے گروپ کا ایک سابق حامی ہلاک جبکہ دوسرا شخص زخمی ہوگیا ہے۔ پولیس اور ریسکیو حکام نے اتوار کے روز اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتے کی شام پیش آیا جب دونوں افراد اپنی گاڑی میں سوار رستم بازار وانا سے اپنے گھر دوآگ کی طرف جا رہے تھے۔ وانا سرکل کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اصغر علی شاہ کے مطابق، مقتول کی شناخت محمد خالد کے نام سے ہوئی ہے جو ماضی میں ملا نذیر گروپ سے وابستہ رہ چکا تھا۔ جب ان کی گاڑی ایک قبرستان کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے موجود نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دونوں افراد شدید زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ محمد خالد کو تشویشناک حالت میں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ دوسرا زخمی شخص وانا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں زیر علاج ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم تادم تحریر حملے کے اصل محرکات اور ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملا نذیر احمدزئی وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے جنوبی وزیرستان کے ایک بااثر کمانڈر تھے جنہوں نے 2007 میں حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور ان کا گروپ علاقے میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لوئر جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور امن و امان کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران علاقے میں دہشت گردی کے واقعات، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے جس پر مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں اور مقامی عمائدین نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں۔