LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں کارگو جہاز کا حادثہ، لاپتہ ملاحوں کی تلاش جاری

News Image
بھارت کے مشرقی ساحل کے قریب پاناما کے جھنڈے والا کارگو جہاز ڈوبنے کے بعد اکیس لاپتہ ملاحوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس حادثے میں اب تک دو چینی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے جبکہ جہاز پر کل چوبیس افراد سوار تھے۔
بھارت کے ساحل سے دور سمندر میں ایک بڑا بحری حادثہ پیش آیا ہے جہاں پناما کے پرچم والا ایک کارگو جہاز ڈوب گیا ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں جہاز پر سوار عملے کے بیشتر افراد لاپتہ ہو گئے ہیں جن کی تلاش کے لیے بھارتی کوسٹ گارڈ اور بحریہ کا مشترکہ ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ جہاز بھارت کی مشرقی بندرگاہ سے آئرن اور لے کر چین کی طرف رواں دواں تھا کہ اچانک سمندر میں ہرزہ کا شکار ہو کر ڈوب گیا۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں حرکت میں آئیں اور اب تک دو چینی شہریوں کو کامیابی سے بچا لیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ بھارتی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل شیام جگناتھن نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بچائے گئے دونوں چینی ملاحوں نے ابتدائی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ جہاز جمعہ کے روز ایک طرف جھک گیا تھا اور محض آٹھ منٹ کے مختصر ترین وقت میں سمندر میں ڈوب گیا جس کی وجہ سے عملے کو فوری طور پر جہاز چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے مزید تسلیم کیا کہ عام طور پر حادثے کے بارہ گھنٹے گزر جانے کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں، تاہم اس کے باوجود ریسکیو ٹیمیں اپنی پوری قوت اور جذبے کے ساتھ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ زندگی کو بچایا جا سکے۔ انڈین کوسٹ گارڈ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اوشین ونر نامی اس ڈوبنے والے بحری جہاز پر مجموعی طور پر چوبیس افراد سوار تھے جن میں اٹھارہ چینی شہری، تین میانمار کے باشندے اور ایک بنگلہ دیشی شہری بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ بھارتی بحریہ بھی کوسٹ گارڈ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اس آپریشن میں بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔ کوسٹ گارڈ کی جانب سے سری وجیا پورم سے دو خصوصی بحری جہاز بھی اس تلاش اور بچاؤ کے عمل میں مدد کے لیے روانہ کیے گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اوشین ونر نامی یہ کارگو جہاز جمعہ کے روز بھارت کی پورادِیپ بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور چین کے لیے لوہے کے پتھر یعنی آئرن اور لے جا رہا تھا۔ یہ جہاز پورٹ سے تقریباً دو سو چالیس سمندری میل کے فاصلے پر حادثے کا شکار ہوا، تاہم ابھی تک اس حادثے کی اصل اور بنیادی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعد ہی اس بحری سانحے کے اسباب کے بارے میں حتمی طور پر ਕੁچھ کہا جا سکے گا۔