Education
این ٹی اے کی ڈھانچہ جاتی بہتری: سابق چیئرمین یو جی سی کا اہم بیان
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سابق چیئرمین نے کہا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ امتحان کے عمل کو محفوظ بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی اور مسلسل رسک اسیسمنٹ طویل مدتی حل ہیں۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے سابق چیئرمین مامیدالا جگدیش کمار نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو امتحانی سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور چیلنجز سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ڈھانچہ جاتی مضبوطی اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جس پیمانے پر امتحانات کا انعقاد کیا جاتا ہے، وہاں امتحانی سکیورٹی کو محض ایک وقتی نہیں بلکہ ایک 'اینڈ ٹو اینڈ' یعنی شروع سے آخر تک کا چیلنج تسلیم کیا جانا چاہیے۔ سابق چیئرمین کے مطابق، امتحانات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے محض روایتی طریقوں پر انحصار کافی نہیں ہے، بلکہ انتظامی اور تکنیکی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل رسک اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹریس ایجنسی یا ڈیجیٹل سراغ رسانی جیسے اقدامات ہی اس ادارے کے طویل مدتی مسائل کا پائیدار حل ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل سسٹمز کے نفاذ سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ کسی بھی ممکنہ گڑبڑ یا نقائص کی بروقت نشاندہی بھی کی جا سکے گی۔ مامیدالا جگدیش کمار کا یہ بھی کہنا تھا کہ این ٹی اے کے دائرہ کار اور امتحانات میں شریک ہونے والے لاکھوں طلبا کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا دیگر شراکت داری کے ماڈلز پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے تعاون سے نہ صرف وسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ امتحان کے انعقاد کے مختلف مراحل میں پروفیشنل مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال بھی ممکن ہو سکے گا۔ تعلیمی ماہرین نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ امتحانی اداروں میں اصلاحات کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ طلبا کا نظامِ تعلیم پر اعتماد بحال رہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غفلت سے بچا جا سکے۔