LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی کمپنیوں کا مقامی نیوکلیئر ری ایکٹرز اپنانے کا فیصلہ

News Image
بھارت میں بجلی کی بڑی کمپنیاں منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ بڑے ایٹمی ری ایکٹرز کا استعمال کریں گی۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے نیوکلیਅਰ سیکٹر میں تیزی لانا اور بیرونی انحصار کو کم کرنا ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی یوٹیلیٹی کمپنیوں نے ملک کے نیوکلیئر سیکٹر میں طویل تاخیر اور لاگت کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر قابو پانے کے لیے ایک اہم حکمت عملی تیار کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ کمپنیاں اب درآمد شدہ یا پیچیدہ بیرونی ماڈلز کے بجائے مقامی سطح پر ڈیزائن کیے گئے بڑے ایٹمی ری ایکٹرز کو ترجیح دیں گی تاکہ توانائی کے منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔ اس پالیسی تبدیلی سے نہ صرف تعمیراتی کام میں تیزی آئے گی بلکہ ملکی سطح پر صنعتی صلاحیتوں کو بھی فروغ ملے گا۔ اس تبدیلی کے تحت اڈانی گروپ اور جندل سمیت کئی بڑی صنعتی و تجارتی کمپنیاں نیوکلیئر پاور کے شعبے میں سرمایہ کاری کے دوران مقامی ٹیکنالوجی کو اپنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ماضی میں ایٹمی منصوبوں کو مختلف قسم کی ریگولیٹری رکاوٹوں، تکنیکی تاخیر اور بجٹ میں نمایاں اضافے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کے اہداف متاثر ہوئے۔ مقامی ڈیزائن کے ری ایکٹرز کے استعمال سے ان تمام رکاوٹوں کو کم کرنے اور منظوری کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے توانائی کے شعبے میں یہ فیصلہ ایک گیم چنجر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ مقامی انجینئرز اور سائنسدانوں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنے سے درآمدی اخراجات میں بھی کمی آئے گی اور ملک خود کفالت کی طرف گامزن ہوگا۔ اس حکمت عملی کے مثبت نتائج آنے والے برسوں میں ملک کی مجموعی اقتصادی اور صنعتی ترقی پر بھی اثر انداز ہوں گے۔