Technology
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ: اسرائیلی اے آئی سیفٹی فریم ورک کی تعریف
عالمی ادارہ صحت کی ایک نئی رپورٹ میں کلالیٹ ہیلتھ سروسز کے مصنوعی ذہانت کے فریم ورک کو سراہا گیا ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد صحت کے شعبے میں اے آئی کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنانا ہے۔
تل ابیب میں کلالیٹ ہیلتھ سروسز کے تحت چلنے والے طبی نظام اور اس کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حفاظتی فریم ورک کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کو محض تجرباتی مراحل سے نکال کر روزمرہ کے طبی امور اور معمول کی دیکھ بھال میں کامیابی کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ رپورٹ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل جدت اور حفاظتی اصولوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صحت کے ادارے اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو مریضوں کی بہتری کے لیے کس طرح محفوظ طریقے سے استعمال کیا جائے۔ کلالیٹ ہیلتھ سروسز کا یہ فریم ورک اس حوالے سے ایک عملی مثال فراہم کرتا ہے کہ طبی ڈیٹا کی رازداری، الگورتھم کی شفافیت اور مریضوں کی حفاظت کو کیسے مقدم رکھا جائے۔ اس نظام کے تحت ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق جدید تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے انسانی یا تکنیکی غلطی کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال امراض کی بروقت تشخیص اور علاج کے طریقوں کو یکسر بدل سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ یہ خطرہ بھی موجود رہتا ہے کہ اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ ٹیکنالوجی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اس اسرائیلی ماڈل کو سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی ادارے اب طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے معیاری اور ذمہ دارانہ نفاذ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر مریضوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔