Technology
بیجنگ میں عالمی روبوٹ کانفرنس، جدید روبوٹس کی نمائش
بیجنگ میں شروع ہونے والی عالمی روبوٹ کانفرنس میں جدید ہیومناਇڈ روبوٹس اور روبوٹک گھوڑوں نے شائقین کو دنگ کر دیا۔ اس نمائش کا مقصد دنیا بھر میں روبوٹکس کی صنعت میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرنا ہے۔
بیجنگ میں منعقدہ سالانہ ورلڈ روبوٹ کانفرنس نے دنیا بھر کے ماہرین، محققین اور شائقین کی توجہ کا مرکز بن کر ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ روبوٹکس کی دنیا کتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اس باوقار تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اداروں نے اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور تخیلاتی ایجادات پیش کیں، جن میں انسان نما روبوٹس یعنی ہیومناਇڈ روبوٹس نے سب سے زیادہ دھوم مچائی۔ کانفرنس کے دوران ایک روبوٹک گھوڑے اور سوار نے خاص طور پر شرکاء کی توجہ حاصل کی، جس کی ویڈیوز اور جھلکیاں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔
اس عالمی تقریب میں جہاں ایک طرف جدید روبوٹس کی دوڑ اور ان کی پیچیدہ حرکات و سکنات کا مظاہرہ کیا گیا، وہیں ماہرین نے اس بات پر بھی بحث کی کہ کیا روبوٹس مستقبل میں انسانی صلاحیتوں کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ نمائش کے دوران ایسے روبوٹس بھی پیش کیے گئے جو نہ صرف انسانوں سے تیز دوڑ سکتے ہیں بلکہ پیچیدہ کام بھی انتہائی پھرتی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان ایجادات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین اور دنیا بھر میں روبوٹکس کی صنعت کتنی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور صنعتی انقلاب کا اگلا مرحلہ کیسا ہوگا۔
کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر تکنیکی تعاون کو فروغ دینا اور مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ اس موقع پر مختلف سائنسی سیمینارز اور ورکشاپس کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں ماہرین نے مستقبل کے چیلنجز، روبوٹس کی دیکھ بھال اور خودکار نظاموں کی توانائی کی ضروریات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس شاندار ایونٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں روبوٹس ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن جائیں گے اور انسانی زندگی کو مزید آسان بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔