Sports
ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز 2026 کے جیولین فائنل میں پہنچ گئے
پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم نے گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے مینز جیولین تھرو کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ کوالیفائنگ راؤنڈ میں انہوں نے رواں سیزن کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتویں پوزیشن حاصل کی۔
پاکستان کے مایہ ناز اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور جیولین تھرو کے ماہر ارشد ندیم نے سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں ایک بار پھر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مینز جیولین تھرو کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ پیر کے روز ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ارشد ندیم نے 78.63 میٹر کی تھرو پھینک کر رواں سیزن کی اپنی بہترین کارکردگی دکھائی اور ساتویں پوزیشن کے ساتھ فائنل تک رسائی حاصل کی۔ یاد رہے کہ 29 سالہ ارشد ندیم نے برمنگھم میں ہونے والے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا، اور اب وہ گلاسگو میں منعقدہ ان کھیلوں میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ جیولین تھرو کا فائنل جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے سے رات سوا دس بجے تک (پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے سے سوا دو بجے تک) کھیلا جائے گا، جہاں وہ ایک بار پھر پاکستانی پرچم بلند کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ رواں ماہ کے آغاز میں سویڈن اور سوئٹزر لینڈ کے مقابلوں میں ارشد ندیم کی واپسی اتنی شاندار نہیں رہی تھی اور وہ سپٹزن لیکٹ ایتھلیٹک میٹنگ میں نویں نمبر پر رہے تھے، تاہم گلاسگو میں انہوں نے کم بیک کرتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ روانگی سے قبل لاہور کے پنجاب اسٹیڈیم میں اپنی آخری ٹریننگ سیشن کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے کامن ویلتھ گیمز کے لیے بھرپور تیاری کی ہے۔ تاہم، فائنل میں انہیں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ بھارت کے نیرج چوپڑا اور روہت یادو کے علاوہ سری لنکا کے رومیش تھارانگا بھی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں، جنہوں نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں 82.84 میٹر کی تھرو کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ارشد ندیم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چیمپئن ہونے کے ناطے ان پر دباؤ ضرور ہے کیونکہ وہ پچھلے چار سال سے اس اعزاز کے حامل ہیں اور انہیں اپنی بہترین کارکردگی دہرانا ہوگی، تاہم میدان میں اترنے والے ہر کھلاڑی کو اس دباؤ پر قابو پانا آتا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کے ہی ایک اور ایتھلیٹ محمد یاسر نے بھی اس ایونٹ میں حصہ لیا اور اپنی سیزن کی بہترین تھرو 74.36 میٹر پھینکی، لیکن وہ ٹاپ بارہ کھلاڑیوں میں جگہ نہ بنا سکے اور مجموعی طور پر چودہویں پوزیشن پر رہے۔ اب تمام پاکستانی شائقین کی نظریں جمعہ کے روز ہونے والے فائنل پر مرکوز ہیں جہاں ارشد ندیم ایک بار پھر ملک و قوم کی امیدوں کا مرکز بنے ہوں گے۔