LIVE
Loading Breaking News...

بچوں کو فون سے دور رکھنے کے لیے مہنگے سمر کیمپس کا آغاز

News Image
آج کے دور میں نو عمر بچوں میں اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کا استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ والدین پریشان ہو کر مہنگے ترین فون فری سمر کیمپس کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان کیمپس پر پچاس ہزار روپے سے لے کر انیس ہزار ڈالر تک کی خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے تاکہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے کاٹ کر حقیقی ماحول میں لایا جائے۔
آج کے دور میں ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فونز نے بچوں کی زندگیوں کو اس طرح گھیر رکھا ہے کہ ان کا زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزرتا ہے۔ نیویارک کے علاقے لونگ آئی لینڈ کی رہائشی تیرہ سالہ ایما بابسن جیسی نو عمر نسل روزانہ چار سے چھ گھنٹے اپنے فون پر صرف کرتی ہے، جہاں وہ ٹک ٹاک پر خریداری اور دیگر تفریحی ویڈیوز دیکھتی رہتی ہے۔ اس بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل انہماک نے والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، کیونکہ بچے آہستہ آہستہ حقیقی دنیا، کھیلوں اور تعلیمی سرگرمیوں سے کٹتے جا رہے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب والدین نے ایک انوکھا اور مہنگا حل تلاش کر لیا ہے، اور وہ ایسے سمر کیمپس پر انیس ہزار ڈالر تک خرچ کرنے کو تیار ہیں جہاں بچوں کے فونز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوتی ہے۔ یہ کیمپس نہ صرف بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھتے ہیں بلکہ انہیں قدرتی ماحول میں مختلف ہنر سکھانے اور سماجی رابطے بحال کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں میں بڑھتی ہوئی اسکرین ٹائم کی عادت ان کی ذہنی صحت اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے، جس کی وجہ سے اس قسم کے سخت اصولوں والے کیمپس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ والدین کا ماننا ہے کہ بھاری فیسیں ادا کرنے کے باوجود اگر ان کے بچے چند ہفتوں کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹوکس حاصل کر سکیں اور حقیقی دوستیاں بنا سکیں تو یہ سرمایہ کاری بالکل سودمند ہے۔ کیمپس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پہلے پہل بچوں کے لیے فون کے بغیر رہنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور وہ ابتدائی دنوں میں بے چینی کا شکار ہوتے ہیں، لیکن کچھ ہی عرصے میں وہ کھلے آسمان تلے کھیلوں، کیمپنگ اور دیگر سرگرمیوں میں اس حد تک مصروف ہو جاتے ہیں کہ انہیں فون کی یاد ہی نہیں رہتی۔ اس رجحان نے جدید دور کے سب سے بڑے نفسیاتی اور سماجی چیلنج کا ایک مؤثر حل پیش کیا ہے، تاہم اتنی مہنگی فیسیں ہر والدین کی پہنچ سے باہر ہونے کی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ سہولت صرف امراء تک محدود ہو کر رہ جائے گی یا اس کا کوئی اجتماعی حل بھی نکالا جا سکے گا۔