LIVE
Loading Breaking News...

ویکسینز میں نئی جدتیں اور زچگی کے دوران ماؤں کی صحت کا تحفظ

News Image
کے ایف ایف ہیلتھ نیوز کی ایڈیٹر ایٹ لارج سیلین گاؤنڈر نے ویکسینز کی نئی جدتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے زچگی کے دوران ماؤں کی صحت کے تحفظ اور ویکسینیشن کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جہاں ماہرین ویکسینز کی تیاری میں نئی جدتوں اور زچگی کے دوران ماؤں کی صحت کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ کے ایف ایف ہیلتھ نیوز کی ایڈیٹر ایٹ لارج برائے پبلک ہیلتھ، سیلین گاؤنڈر نے حال ہی میں ایک نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ طبی تحقیق میں ہونے والی حالیہ پیش رفت انسانی صحت کے لیے کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کینسر اور دیگر مہلک امراض کے خلاف ویکسینز کی تیاری میں جدید سائنسی طریقوں کے استعمال کو سراہا۔ گفتگو کے دوران سیلین گاؤنڈر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر صحت کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ویکسینز نہ صرف مختلف خطرناک بیماریوں کا کامیابی سے مقابلہ کر سکتی ہیں بلکہ یہ محققین کے لیے نئے راہیں بھی کھول رہی ہیں۔ انہوں نے زچگی کے دوران ماؤں کو درپیش طبی چیلنجز اور ان کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی احاطہ کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ طبی برادری کی اولین ترجیح ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ویکسینیشن کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری اور تحقیق جاری رکھی جائے تو دنیا بھر میں قبل از وقت اموات اور پیچیدہ بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سیلین گاؤنڈر نے اس بات کی بھی وکالت کی کہ صحت کی بنیادی سہولیات کو ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ کسی بھی بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ ان کا یہ تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر کے طبی ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔