World
افغانستان میں خواتین پر پابندیاں اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات
افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد کردہ سخت اور غیر قانونی پابندیوں کے باعث افغان خواتین شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو رہی ہیں، جو انہیں خودکشی جیسے انتہائی قدم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ملک میں خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں سے معاشی نقصان کے ساتھ ساتھ انسانی بحران بھی سنگین ہوتا جا रहा ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد کردہ غیر قانونی اور سخت ترین پابندیوں کے گہرے اور خوفناک اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس اور ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان ظالمانہ پابندیوں نے نہ صرف افغان خواتین کا مستقبل تاریک کر دیا ہے بلکہ انہیں شدید نفسیاتی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا کر کے خودکشی جیسے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے محرومی نے افغان معاشرے میں خواتین کی زندگی اجنبی اور ناقابل برداشت بنا دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک طرف جہاں طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند کر رکھے ہیں، وہیں دوسری طرف ان کے کام کرنے پر بھی سخت قدغنیں لگائی گئی ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق افغانستان کو صرف خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندی کی وجہ سے سالانہ چوراسی ملین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس معاشی بدحالی اور سماجی گھٹن کے ماحول میں بہت سی خواتین اور گھریلو معیشت چلانے والی سہارائیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس کٹھن اور مشکل ترین صورتحال کے باوجود، کچھ افغان خواتین نے ہمت نہیں ہاری اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے پیمانے پر کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کے ذریعے مزاحمت کر رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس تاریک دور میں خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہی ان کا سب سے بڑا احتجاج ہے۔ تاہم، اجتماعی سطح پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے طالبان کو تسلیم نہ کیے جانے اور کابل حکومت پر مؤثر دباؤ نہ ڈالنے کی وجہ سے عام افغان خواتین کی حالت زار دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں۔