LIVE
Loading Breaking News...

گوڈزیلا فلموں کی 5 دلچسپ اور لازمی حقیقتیں

News Image
گوڈزیلا نے 1954 میں اپنی فلمی شروعات کے بعد سے سنیما کی دنیا میں ایک منفرد اور لازوال مقام حاصل کیا ہے۔ اس طویل سفر میں کچھ ایسے مستقل عناصر ہیں جو ہر گوڈزیلا فلم کا لازمی حصہ بنتے ہیں۔
سن 1954 میں اپنی پہلی فیچر فلم سے لے کر اب تک، گوڈزیلا نہ صرف سلور اسکرین کا سب سے مشہور مونسٹر بن چکا ہے بلکہ یہ فلمی تاریخ کے سب سے لچکدار اور تبدیل ہونے والے کرداروں میں بھی شمار ہوتا ہے۔ سات دہائیوں پر محیط اس طویل تاریخ میں گوڈزیلا نے خود کو وقت کے ساتھ ڈھالا ہے اور ہر دور کے ناظرین کو محظوظ کیا ہے۔ تاہم، اس کی طویل فلمی فرنچائز میں کچھ ایسی باتیں اور روایات ہیں جو تقریباً ہر فلم میں کسی نہ کسی شکل میں ضرور دہرائی جاتی ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ گوڈزیلا کی آمد ہمیشہ ایک بڑے سائنسی یا ماحولیاتی بحران سے جڑی ہوتی ہے۔ انسانوں کی جانب سے قدرت کے ساتھ چھیڑ چھাড়، خاص طور پر جوہری تجربات، اس دیو قامت مخلوق کو بیدار کرنے یا اس کی تخلیق کا سبب بنتے ہیں۔ شائقین بخوبی جانتے ہیں کہ جب بھی اسکرین پر سائرن بجیں گے اور افراتفری مچے گی، تو اس کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی انسانی کوتاہی ضرور فرماں فرما ہوگی۔ دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ گوڈزیلا اکیلا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقابلہ ہمیشہ کسی دوسرے طاقتور اور خطرناک مونسٹر سے ہوتا ہے۔ کائجو (Kaiju) کی اس دنیا میں گھمسان کی جنگیں فلم کا مرکزی حصہ ہوتی ہیں جہاں شہر ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ انسانی کردار، بالخصوص سائنسی ماہرین اور فوجی افسران، اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے تمام جدید ترین ہتھیار اس دیو ہیکل مخلوق کے سامنے اکثر بے بس نظر آتے ہیں۔ آخری اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ گوڈزیلا کا کردار کبھی ایک خطرناک تباہی کے علمبردار کے طور پر دکھایا جاتا ہے تو کبھی انسانیت کے محافظ کے روپ میں۔ یہی وجہ ہے کہ ستر سال گزرنے کے باوجود گوڈزیلا کا سحر شائقین کے سر چڑھ کر بولتا ہے اور لوگ اس کی ہر نئی فلم کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔