Business
مہنگائی اور ایس پی آئی کی شرح: تازہ ترین اقتصادی صورتحال
ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ جاری ہے اور ہفتہ وار حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) 9.6 فیصد پر برقرار ہے۔ اس صورتحال کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
ملک میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے جبکہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) 9.6 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے۔ مہنگائی کی اس مسلسل لہر کے نتیجے میں روزمرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، اور معاشرے کا کم آمدنی والا طبقہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے عام گھرانوں کے ماہانہ بجٹ کو شدید خطے میں ڈال دیا ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں آٹے کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں جہاں بیس کلو گرام کا تھیلا اکتیس سو تتیس روپے (3,133 روپے) تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ آٹے جیسی بنیادی خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مزدور اور غریب طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سبزیوں بالخصوص پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران نوے فیصد سے زائد کا نمایاں اور تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سبزیوں اور گوشت سمیت دیگر ضروری اشیاء کی آسمان کو چھوتی قیمتوں نے لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی یہ شرح اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں حکومتی پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کے باوجود عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکامی کی عکاس ہیں۔ غریب عوام کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں گزر بسر کرنا انتہائی کٹھن ہوتا جا رہا ہے اور اگر فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو معاشرتی مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومت قیمتوں کے اس طوفان کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ زندگی کی بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی ممکن ہو سکے۔