LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی کمپنیاں ٹریننگ ڈیٹا کے لیے لاکھوں کتابیں خرید کر تباہ کرنے لگیں

News Image
مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں اپنے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے خاموشی سے کتابیں خرید کر تباہ کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مڈل مینز کی خدمات لی جا رہی ہیں تاکہ کاپی رائٹ اور قانون سے بچا جا سکے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا سے ایک انتہائی حیران کن اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے لاکھوں کتابیں خفیہ طور پر خرید کر تباہ کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ کمپنیاں براہ راست کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی سے بچنے اور قانونی پیچیدگیوں کو طفلی دینے کے لیے تیسرے فریق یعنی مڈل مینز کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ ان مڈل مینز کا کام مارکیٹ سے مختلف مصنفین اور ناشرین کی کتابیں بڑی تعداد میں خریدنا اور پھر انہیں اس طرح تلف کرنا ہوتا ہے کہ ان کا کوئی ڈیجیٹل یا فزیکل ریکارڈ نہ بچے تاکہ کوئی قانونی دعویٰ دائر نہ کیا جا سکے۔ یہ سارا عمل انتہائی رازداری سے کیا جا رہا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو اس وقت اپنے ماڈلز کو طاقتور بنانے کے لیے خطیر مقدار میں معیاری تحریری مواد یا ڈیٹا کی اشد ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا کے ذرائع محدود ہونے اور کاپی رائٹ کے مقدمات میں اضافے کی وجہ سے اب ان کارپوریشنز نے اس تاریک اور خفیہ راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ماہرینِ قانون اور ادبی حلقوں نے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کتابوں اور مصنفین کے حقوق کی کھلی پامالی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تخلیق کاروں کی محنت کو چوری کر کے اس طرح مٹانا اور اسے اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کرنا اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے انتہائی قابلِ مذمت فعل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس انکشاف کے بعد دنیا بھر میں تخلیق کاروں اور ناشرین کی طرف سے سخت قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا جائے گا، جس سے آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔