Business
جولائی میں فوڈ امپورٹس 8.12 فیصد بڑھ گئیں، تجارتی خسارے میں بھی اضافہ
رواں مالی سال کے پہلے مہینے جولائی میں خوراک کی درآمدات 8.12 فیصد اضافے کے ساتھ 805.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس دوران درآمدات میں تیزی کے باعث ملک کے مجموعی تجارتی خسارے میں بھی 26 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کے تجارتی اور معاشی منظر نامے سے جڑی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے مہینے یعنی جولائی میں ملک کے اندر خوراک کی درآمدات میں 8.12 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ درآمدات 805.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اشیائے خوراک اور دیگر ضروری مشینری کی درآمدات میں اضافے نے ملک کے مجموعی تجارتی خسارے کو بھی گہرا کر دیا ہے اور اس میں 26 فیصد تک کا بڑا اچھال دیکھا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات میں یہ تسلسل ملکی ز مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس سے تجارتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب وزارتِ تجارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے دوران ملکی برآمدات میں بھی سال بہ سال بنیادوں پر 13.1 فیصد کا اچھا اضافہ ہوا ہے اور برآمدات بڑھ کر 3.94 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ اس کے باوجود درآمدی بل میں بے تحاشا اضافے نے تجارتی فرق کو مزید چوڑا کر دیا ہے۔ اس دوران ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (REER) بھی جولائی میں بڑھ کر 107.9 پر پہنچ گیا ہے، جو ملکی کرنسی کی قدر اور بیرونی تجارت کی مسابقت کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ کاروباری حلقوں اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو برآمدات میں اضافے کے اس رجحان کو مزید تقویت دینے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری درآمدات بالخصوص خوراک اور دیگر اشیاء کے متبادل ملکی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی تاکہ تجارتی خسارے کے بڑھتے ہوئے اس طوفان کو روکا جا سکے اور معیشت کو استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے کیونکہ موجودہ صورتحال آنے والے مہینوں میں پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔