Technology
کیو آر کوڈ فراڈ: شہریوں کو مالی نقصان، نیا سائبر خطرہ
برطانیہ میں کیو آر کوڈز اور جعلی ایپس کے ذریعے شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نامعلوم کیو آر کوڈز کو سکین کرنے اور غیر مصدقہ ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کریں۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں سہولیات میں اضافہ ہوا ہے، وہیں سائبر مجرموں نے عوام کو لوٹنے کے نئے اور پیچیدہ طریقے بھی تلاش کر لیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کیو آر (QR) کوڈز اور جعلی موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے ہونے والے فراڈ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوکہ باز اب عام استعمال ہونے والے کیو آر کوڈز کو ہیک یا تبدیل کر کے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی ذاتی معلومات خطرے میں پڑ جاتی ہیں بلکہ بینک اکاؤنٹس بھی خالی ہو رہے ہیں۔
اس حوالے سے سامنے آنے والے ایک تازہ واقعے میں لیس ہاورڈ نامی برطانوی شہری کو اس وقت شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک بظاہر عام سی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کی۔ اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دھوکہ بازوں نے ان کی اجازت کے بغیر ان کے بینک اکاؤنٹ سے ماہانہ ساٹھ پاؤنڈز کی سبسکربشن چارج کرنا شروع کر دی۔ اس نوعیت کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مجرم اب تکنیکی حربوں کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کی سادگی اور لاپرواہی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر دنیا بھر کے صارفین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی پبلک مقام پر لگے ہوئے کیو آر کوڈ کو سکین کرنے سے پہلے یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ آیا وہ کسی معتبر اور مستند ادارے کا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ نامعلوم ذرائع سے موبائل ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ان میں خطرناک مالویئر یا خفیہ سبسکربشنز موجود ہو سکتی ہیں جو صارف کی جیب پر براہ راست ڈاکہ ڈالتی ہیں۔
حکومتیں اور مالیاتی ادارے بھی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب عوامی آگاہی مہمات چلا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو بتایا جا सके کہ آن لائن دنیا میں احتیاط کتنی ضروری ہے۔ اگر کسی شہری کو اپنے بینک اکاؤنٹ سے کسی بھی مشکوک لین دین کا شبہ ہو، تو اسے فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک اور سائبر کرائم حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔ صرف ہوشیاری اور وقت پر اٹھائے گئے اقدامات ہی اس قسم کے مالی فراڈ سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔