Pakistan
راولپنڈی حنا جاوید قتل کیس: خاتون اول آصفہ بھٹو کا تحقیقات کا مطالبہ
خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے مبینہ قتل پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس لرزہ خیز واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے۔
اسلام آباد (نیزور نیوز) خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے اتوار کے روز پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ راولپنڈی کے عسکری اپارٹمنٹس میں پراسرار طور پر مردہ پائی جانے والی حنا جاوید کے قتل کے واقعے کی گہرائی سے اور مکمل تحقیقات کرائے۔ حنا جاوید کی لاش جمعرات کی شام لال کرتی کے علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹس کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی، جس کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے اور گلے میں تار بندھی ہوئی تھی جو شاور راڈ کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی۔ اس المناک واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ایک گھریلو ملازم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ صدر مملکت کے دفتر سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خاتون اول نے حنا جاوید کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندان سے تعزیت و یکجہتی کا پیغام پہنچایا ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری نے زور دیا کہ اس گھنائونے جرم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی درندگی کا ارتکاب کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ انہوں نے ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں مقتولہ کے بھائی فاہد جاوید کی مدعیت میں سول لائنز تھانے میں 20 اگست کو تعزیتِ پاکستان کی دفعات 302 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ مدعی نے الزام عائد کیا کہ اس کی بہن کو اس کے شوہر، سسر اور ملازم نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر زہر بھی دیا گیا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ کے گلے پر گلا گھونٹنے کا نشان، ہونٹ کے نیچے زخم اور خون بہنے کے آثار موجود تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔