LIVE
Loading Breaking News...

ایڈبلیو ایس لیک شدہ کیز اور سیکیورٹی خدشات

News Image
سیکیورٹی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ کارپوریٹ اکاؤنٹس تک مکمل رسائی دینے والی سینکڑوں لیک شدہ ایڈبلیو ایس کیز اب بھی کارآمد ہیں۔ ایمزون کی موجودہ قرنطینہ پالیسی کے باوجود یہ فعال کیز سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
سیکیورٹی ریسرچ کی معروف فرم ٹرافل سیکیورٹی نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک بڑے خطرے کا انکشاف کیا ہے۔ محققین کو اپنی تحقیق کے دوران ایسے 768 لیک شدہ ایڈبلیو ایس (AWS) یعنی ایمیزون ویب سروسز کیز ملے ہیں جو کارپوریٹ اکاؤنٹس پر مکمل کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔ اس تشویشناک انکشاف میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان میں سے 526 روٹ کیز بھی شامل ہیں، جبکہ ٹیسٹ کیے گئے کل اسناد میں سے 88 فیصد اب بھی فعال اور کام کر رہے ہیں۔ محققین کے مطابق، جب ایڈبلیو ایس کو کسی کیز کے لیک ہونے کا علم ہوتا ہے تو وہ اس پر ایک مخصوص قرنطینہ پالیسی لاگو کرتا ہے۔ تاہم، یہ پالیسی سیکیورٹی کے تمام خطرات کو ختم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے کیونکہ اس کے تحت بھی ایک طویل فہرست ایسے کاموں کی اجازت دیتی ہے جو سسٹم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس خامی کی وجہ سے سائبر مجرموں کے لیے کارپوریٹ ڈیٹا تک رسائی اور سسٹم میں گھسنا اب بھی ممکن رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ اداروں کو اپنی کلاؤڈ سیکیورٹی کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور صرف پلیٹ فارم کی پالیسیوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود بھی سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ لیک ہونے والے روٹ کیز کا فعال رہنا کسی بھی کمپنی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہیکرز کو پورے انفراسٹرکچر پر اجارہ داری مل جاتی ہے۔ یہ واقعہ کلاؤڈ سیکیورٹی کے شعبے میں موجود خغیوں اور فوری بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔