World
پرنس ولیم اور ہِری کا تنازع: متوازی شاہی دربار کے منصوبے پر وارننگ
برطانوی شاہی خاندان کے امور کے ماہرین نے پرنس ولیم کو خبردار کیا ہے کہ وہ پرنس ہِری اور میگن مارکل کے متوازی شاہی دربار بنانے کے منصوبے سے ہوشیار رہیں۔ یہ صورتحال مستقبل میں برطانوی بادشاہت کے اندرونی استحکام کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے قریبی ذرائع اور مبصرین نے دعویٰ کیا ہے کہ پرنس ہِری اور میگن مارکل کی جانب سے ایک متوازی 'رائل کورٹ' یا متبادل شاہی نظام قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے شاہی محل میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور شہزادہ ولیم کو اس حوالے سے خصوصی طور پر خبردار کیا گیا ہے تاکہ وہ بروقت حکمت عملی تیار کر سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سسیکس کے ڈیوک اور ڈچس نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کوئی الگ پلیٹ فارم یا متوازی ڈھانچہ تشکیل دیا تو اس سے برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی تعلقات پر شدید منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ پرنس ہِری اور میگن مارکل کی جانب سے شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد سے ہی ان کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ کیلیفورنیا میں مقیم ہونے کے باوجود، ان کے فلاحی کاموں اور میڈیا ہاؤسز کے ذریعے عالمی سطح پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوششوں کو شاہی محل میں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس متوازی حکمت عملی کا مقصد عالمی سطح پر شاہی خاندان کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرنا ہو سکتا ہے۔ شاہی محل کے قریبی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرنس ولیم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے انتہائی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ برطانوی بادشاہت کا وقار اور مرکزی حیثیت متاثر نہ ہو، بالخصوص ایسے وقت میں جب بادشاہ چارلس سوم کی صحت کے معاملات اور دیگر خاندانی مسائل بھی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس پوری صورتحال پر آنے والے دنوں میں مزید اہم پیشرفت متوقع ہے، کیونکہ شاہی خاندان کے ترجمان اور مبصرین اس متوازی منصوبے کے ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔