Technology
مصنوعی ذہانت اور بھارتی فارما انڈسٹری، صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلی
بھارتی وزیر مملکت برائے صحت انوپریہ پٹیل نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ادویات کی تیاری کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے ملک کے صحت عامہ کے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
نئی دہلی میں منعقدہ آئی آئی ایم اے ہیلتھ کیئر سمٹ کے دوران مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے صحت کے شعبے پر اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر مملکت برائے صحت انوپریہ پٹیل نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف نئی ادویات کی دریافت اور تیاری کے عمل کو نمایاں طور پر تیز کر سکتی ہے بلکہ تحقیقی اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی لانے کا باعث بن سکتی ہے۔
انوپریہ پٹیل نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کا یہ اقدام بھارت کو صحت کے شعبے میں درپیش پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے میں بھرپور مدد فراہم کرے گا۔ ملک کے دور دراز علاقوں تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور بیماریوں کی بروقت تشخیص کے لیے ڈیجیٹل اور اے آئی پر مبنی حل ناگزیر ہو چکے ہیں۔ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے بروقت اور درست استعمال سے ایک صحت مند اور ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے، جس کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق، فارما انڈسٹری میں روایتی طریقوں سے نئی ادویات تیار کرنے میں کئی سال اور اربوں روپے کی لاگت آتی ہے، تاہم مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے الگورتھمز اس پورے عمل کو چند مہینوں تک محدود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سمٹ کے دوران ماہرین صحت، تکنیکی ماہرین اور حکومتی عہدیداروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت میں ہیلتھ کیئر کا مستقبل ڈیجیٹل اور اے آئی کی تیکنیک سے جڑا ہوا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں فارما ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے شعبے میں اے آئی کی سرمایہ کاری میں مزید تیزی آئے گی۔