LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک کا بچوں کی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر 400 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا فیصلہ

News Image
ٹک ٹاک اور اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکی وزارتِ انصاف کے ساتھ بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی چار سو ملین ڈالر کا تلافیاتی ہرجانہ ادا کرے گی تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک اور اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکی وزارتِ انصاف کے ساتھ ایک اہم معاہدے طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے قوانین کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات کو حل کرنے کے لیے چار سو ملین ڈالر کی خطیر رقم بطور ہرجانہ ادا کرے گی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی حکام کی جانب سے پلیٹ فارم پر کم عمر صارفین کے کوائف کے تحفظ اور ذہنی صحت سے متعلق قوانین کی پاسداری نہ کرنے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس معاہدے کا باضابطہ اعلان اگست 2026 کے اواخر میں کیا گیا، جو کہ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے ایک بڑا موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی وزارتِ انصاف کا مؤقف تھا کہ ٹک ٹاک نے کم عمر بچوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کے لیے وضع کردہ سخت وفاقی قوانین کو پسِ پشت ڈالا، جس سے بچوں کے والدین اور نگران اداروں میں شدید تشویش پائی جاتی تھی۔ اس معاہدے کے بعد قانونی تنازعات کو خوش اسلوبی سے ختم کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس کے ترجمان نے اس قانونی تصفیے کے بعد مستقبل میں بچوں کے تحفظ کے لیے مزید موثر اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر کم عمر صارفین کی سکیورٹی اور پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین سسٹمز اور پیرنٹل کنٹرول کے فیچرز کو مزید سخت کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بھی واضح پیغام گیا ہے کہ انہیں کم عمر صارفین کے حقوق کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا۔