World
گورڈن سونڈ لینڈ: صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے اتحادیوں پر پابندی لگا رہے ہیں
امریکہ کے سابق سفیر گورڈن سونڈ لینڈ کا کہنا ہے کہ امریکی اتحادیوں نے برسوں تک ایران کے ساتھ تجارت سے ناجائز اور مفت فائدہ اٹھایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب اس پالیسی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر رہے ہیں تاکہ عالمی تجارت میں توازن قائم کیا جا سکے۔
امریکہ کے سابق سفیر گورڈن سونڈ لینڈ نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی اتحادیوں نے طویل عرصے تک ایران کے ساتھ تجارت کرکے مفت کا فائدہ اٹھایا ہے، لیکن موجودہ حالات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تمام صورتحال کو سختی سے بند کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملک امریکہ کے ساتھ تجارتی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایران کی معیشت کو مالی امداد فراہم کرنے یا اس کے ساتھ کاروبار کرنے کے عمل کو ترک کرنا ہوگا۔
سونڈ لینڈ کے مطابق، واشنگٹن کی طرف سے ایران پر لگائی جانے والی نئی اور سخت پابندیوں کا مقصد عالمی سطح پر ایک واضح پیغام دینا ہے۔ اب اتحادی ممالک کے لیے یہ ممکن نہیں رہے گا کہ وہ بیک وقت امریکہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر تجارتی فوائد سمیٹیں اور دوسری طرف ایرانی حکومت کی مالی معاونت کا سبب بننے والی تجارتی سرگرمیوں کا بھی حصہ بنے رہیں۔ صدر ٹرمپ کی یہ نئی حکمت عملی دہائیوں سے جاری اس پالیسی کا خاتمہ ہے جسے مبصرین کے نزدیک نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں اور بین الاقوامی سطح پر تجارتی اور سفارتی تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تجارتی شراکت داروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تاکہ ایرانی حکومت کی عسکری اور معاشی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔
سابق سفیر نے مزید کہا کہ اس سخت موقف سے امریکہ کے قریبی اتحادیوں کو اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ کون سے ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں اور کون ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔