World
اسرائیل کا شام پر حملہ، امریکہ کو پیشگی اطلاع نہ دینے کا انکشاف
امریکی ایلچی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے شام میں واقع ایک فضائی اڈے پر حملے سے پہلے امریکہ کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔ اس حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک امریکی ایلچی نے یہ اہم انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے شام میں واقع ایک اہم فضائی اڈے پر کارروائی کرنے سے قبل امریکہ کو کسی قسم کی پیشگی اطلاع فراہم نہیں کی تھی۔ اس بات نے واشنگٹن میں پالیسی سازوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ اس طرح کے حساس اقدامات کے لیے قریبی اتحادیوں کے درمیان رابطے کی توقع کی جاتی تھی۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فضائی حملے کے پیچھے جو خفیہ معلومات کارفرما تھیں، وہ مبینہ طور پر درست نہیں تھیں۔ اس صورتحال نے خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے مابین سٹریٹجک ہم آہنگی پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ادھر تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ شام کے اس فوجی اڈے پر ہونے والی حالیہ بمباری کا مقصد ترکی کو خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور آئندہ انتخابات سے قبل مشتعل کرنا یا ایک خاص جال میں پھنسانا ہو سکتا ہے۔ خطے میں پہلے ہی سے جاری تناؤ اور مختلف ممالک کی افواج کی موجودگی کے باعث ایسے یکطرفہ اقدامات خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور ترکی کے ساتھ علاقائی سفارتی تعلقات پر بھی اس کارروائی کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مزید رابطے متوقع ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔