Technology
پاکستان میں واٹس ایپ پارسل فراڈ کا انکشاف، خواتین نشانے پر
پاکستان میں سائبر کرمنلز نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک نئے پارسل فراڈ کا آغاز کر دیا ہے جس میں خصوصی طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والی جعلی پارسل کی پیشکشوں اور لنکس سے ہوشیار رہیں۔
پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اور بڑا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ملک بھر میں خواتین کو واٹس ایپ کے ذریعے ایک خطرناک پارسل فراڈ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دھوکے باز اسکیم کے تحت مجرم مختلف معروف کوریئر کمپنیوں یا شاپنگ برانڈز کے نام سے خواتین کو پیغامات بھیجتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا کوئی قیمتی پارسل یا انعام موصول ہوا ہے۔ فراڈ کرنے والے اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پارسل کی وصولی کے لیے محض چند سو روپے کی کسٹم فیس یا ڈیلیوری چارجز آن لائن ادا کرنے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، یہ سائبر مجرموں کا ایک ایسا چالاک ہتھکنڈا ہے جس کا مقصد معصوم شہریوں خصوصاً خواتین کی ذاتی معلومات اور بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ جیسے ہی صارف دیے گئے جعلی لنک پر کلک کرتے ہیں یا اپنی بینک ڈیٹیلز درج کرتے ہیں، ان کے اکاؤنٹس سے رقم غائب ہو جاتی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے عوام بالخصوص خواتین کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی ایسی مشکوک آفرز پر ہرگز اعتبار نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی قسم کی مالی لین دین کی جائے۔ اگر کسی کو ایسا کوئی بھی پیغام موصول ہوتا ہے تو فوری طور پر اسے بلاک اور رپورٹ کیا جائے تاکہ مزید لوگ اس دھوکے کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ حکومت اور نجی اداروں کی سطح پر بھی اس حوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو محفوظ بنایا جا سکے اور سائبر کرمنلز کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔