Business
تخليقی معیشت اور جنریشن زی کے لیے روزگار کے مواقع
انڈونیشیا کی وزارتِ تخلیقی معیشت کا کہنا ہے کہ تخلیقی شعبہ نوجوانوں بالخصوص جنریشن زی کے لیے روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔ اس شعبے سے منسلک ہو کر بے روزگاری کے تناسب میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
انڈونیشیا کی وزارتِ تخلیقی معیشت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں تخلیقی معیشت کا شعبہ نوجوان نسل، بالخصوص جنریشن زی کے لیے روزگار کے حصول کا ایک بہترین اور متبادل ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جب بے روزگاری ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، تخلیقی صنعتیں نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ انڈونیشیا میں اس شعبے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومتی سطح پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔
وزارت کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا، آرٹس، فیشن، ڈیزائن، اور ٹیکنالوجی سے جڑے دیگر شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جہاں نوجوانوں کی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ جنریشن زی کے افراد جو جدید رجحانات اور ٹیکنالوجی سے بھرپور آگاہی رکھتے ہیں، اس شعبے میں انتہائی آسانی سے ایڈجسٹ ہو سکتے ہیں۔ روایتی ملازمتوں کے مقابلے میں تخلیقی معیشت ان کو نہ صرف مالی استحکام دیتی ہے بلکہ ان کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اقتصادی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لیے تخلیقی صنعتوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ ملکی برآمدات اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تعلیمی اداروں میں بھی ایسے کورسز متعارف کروائے جائیں جو طلباء کو تخلیقی معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کریں تاکہ وہ گریجویشن کے فوراً بعد عملی میدان میں اتر سکیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انڈونیشیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک اس شعبے پر توجہ مرکوز کریں تو آنے والے برسوں میں بے روزگاری کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جنریشن زی کے لیے یہ شعبہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ یہ انہیں روایتی دفتری اوقات کی پابندی سے آزاد کر کے آزادانہ طور پر کام کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع دیتا ہے۔