Technology
لیٹرا کی ہائبرڈ راکٹ انجن کے لیے 2.6 ارب یین فنڈنگ
ہکاڈو یونیورسٹی کے اسپن آؤٹ لیٹرا نے پلاسٹک کو بطور ایندھن استعمال کرنے والے ہائبرڈ راکٹ انجنوں کے لیے 2.6 ارب یین (लगभग 16 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ راکٹ انجن قانونی طور پر دھماکہ خیز مواد کی درجہ بندی میں نہیں آتے، جس سے ان کی تیاری اور نقل و حمل آسان ہو جاتی ہے۔
ہکاڈو یونیورسٹی کا ایک مشہور اسپن آؤٹ اسٹارٹ اپ 'لیٹرا' (Letara) خلائی صنعت میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے تقریباً 2.6 ارب یین یعنی لگ بھگ 16 ملین ڈالر کی بھاری فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ یہ فنڈنگ ایسے جدید ہائبرڈ راکٹ انجنوں کی تیاری اور ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی جو پلاسٹک کو بطور بنیادی ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی اور انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قانونی طور پر دھماکہ خیز مواد کی درجہ بندی میں نہیں آتے، جس کی وجہ سے ان کے استعمال، تیاری اور ٹرانسپورٹیشن میں قانونی پیچیدگیاں کافی حد تک کم ہو جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں اسپیس ٹیک انڈسٹری اب متبادل اور محفوظ طریقوں کی تلاش میں ہے تاکہ خلا تک رسائی کو سستا اور کم خطرناک بنایا جا سکے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں جرمنی کی معروف کمپنی 'ہائے امپلس' (HyImpulse) نے بھی بالکل اسی طرز پر کام کرتے ہوئے 45 ملین یورو کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہائبرڈ راکٹ ٹیکنالوجی کا مستقبل روشن ہے۔ جپانی کمپنی لیٹرا کی اس کامیابی سے نہ صرف ملک میں خلائی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ تجارتی بنیادوں پر سیٹلائٹ لانچنگ مارکیٹ میں بھی ایک نیا اور سستا متبادل سامنے آئے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے محفوظ راکٹ انجن مستقبل قریب میں خلائی صنعت کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے کیونکہ روایتی ایندھن کے مقابلے میں پلاسٹک پر مبنی ہائبرڈ انجن نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ ان کے اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہیں۔