LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں نوجوانوں کے لیے کاروبار اور ثقافتی شناخت کی اہمیت

News Image
انڈونیشیا کے مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر تھامس اے ایم جیوآنڈونو نے نوجوان نسل پر زور دیا ہے کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دیتے ہوئے ملکی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ روایتی اقدار کو جدید کاروباری رجحانات میں شامل کرنا ملکی معیشت اور شناخت دونوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
جکارتا میں انڈونیشیا کے مرکزی بینک (بینک انڈونیشیا) کے ڈپٹی گورنر تھامس اے ایم جیوآنڈونو نے ملک کی نوجوان نسل پر زور دیا ہے کہ وہ چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں یعنی ایم ایس ایم ایز کی ترقی اور ترویج کے دوران اپنی روایتی ثقافتی شناخت کو زندہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی تاریخی جڑوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپٹی گورنر کا ماننا ہے کہ معاشی ترقی اور ثقافتی تحفظ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں اور نوجوان اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب ڈیجیٹلائزیشن اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے تمام دنیا میں ثقافتی اقدار تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، انڈونیشیائی حکام اس بات پر فکر مند ہیں کہ روایتی فنون، دستکاری اور مقامی مصنوعات کہیں پس منظر میں نہ چلی جائیں۔ اسی پس منظر میں بینک انڈونیشیا نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں مقامی عناصر کو نمایاں کریں تاکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی منفرد پہچان برقرار رہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے پاس ثقافتی سرمائے کی کوئی کمی نہیں ہے اور اگر نوجوان اسے جدید کاروباری ماڈلز کے ساتھ ہم آہنگ کر لیں تو وہ نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کر سکتے ہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا اور ساتھ ہی ساتھ ملک کے صدیوں پرانے ثقافتی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔