World
جنرل عاصم منیر کا تہران کا دورہ، پاک ایران تعلقات اور امریکی ثالثی کی کوششیں
پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر تہران کا اہم دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کا مقصد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانا اور امریکہ و ایران کے درمیان رکے ہوئے مذاکرات کی بحالی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر اہم دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی ایرانی عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مصالحتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، پاکستانی آرمی چیف کے اس دورے کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور علاقائی امن و سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران اہم ترین ایجنڈا امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطوں کی بحالی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ کا یہ دورہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی سطح پر بداعتمادی کے خاتمے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے اہمم ممالک بشمول مصر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تھا تاکہ علاقائی سکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہونے کی حیثیت سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی فاصلے مٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور آرمی چیف کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار سکیورٹی، تجارت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے امور پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے اختتام پر دونوں طرف سے علاقائی استحکام اور امن کے لیے مثبت پیغامات سامنے آئیں گے، جو نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔